موجودہ قرآن کے بارے میں خلیفہ ثالث عثمان اور سعید بن جبیر تابعی کی رائے
اھل سنت کے عالم ابوبکر عبداللہ بن ابی دائود جن کو "ثقہ اور مامون" جیسے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے ،اپنی کتاب "المصاحف" میں موجودہ قرآن کے بارے میں حضرت عثمان کے ریمارکس لکھتے ہیں
روایت نمبر 1
عبدالا علی ٰٰ بن عبد اللہ بن عامر قرشی سے نقل کرتے ہیں کہ جب عثمان مصحف سے فارغ ہو گئے اور انہوں نے اسے دیکھا تو فرمایا : تم لوگوں نے بہت اچھا کیا اور خوب کیا مگر اس میں کچھ غلطیاں مجھے نظر آتی ہیں جنہیں عرب لوگ اپنی زبانوں سے ٹھیک کر لیں
روایت نمبر 2
عکرمہ طائی سے نقل کرتا ہے کہ جب عثمان کے پاس مصحف لایا گیا تو اس میں انہیں کچھ غلطیاں نظر آئیں ، اس پر انہوں نے فرمایا کہ اگر لکھانے والا بنو ہذیل کا اور لکھنے والا بنو ثقیف کا کوئی آدمی ہوتا تو اس میں یہ غلطیاں نہ پائی جاتیں
روایت نمبر 3
سعید بن جبیر سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا قرآن میں چار حروف غلط ہیں (1) . الصّّئبون (5/69) (2). والمقیمین (4/162) (3) . فاصدق واکن من الصالحین (63/ 10) اور (4) . ان ھذا ان لساحران (20/63) //
کتاب المصاحف // ابن ابی داود // ج 1 // ص 228،231،232//طبع بیروت
تبصرہ
لیجئے ! قرآن عہد عثمانی میں مرتب تو ہوا لیکن اس میں بھی غلطیاں رہ گیئں . ان غلطیوں عثمان نے درست نہیں کیا بلکہ اسی طرح رہنے دیا کہ عرب خود اپنی زبان میں درست کر لیں گے
اب بتایئے قرآن میں کمی اور اغلاط کا منکر کون ہے
Moderator
دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت
There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)
Bookmarks