nice sharing
دین مبین اسلام نے جہاں یہ کہا کہ خدا نے انسان کو اس لئے خلق فرمایا کہ وہ اس کی عبادت کرے تو مومنین نے خوشنودی خدا کی خاطر عبادتوں کو اپنا روزآنہ کا معمول بنالیا کسی نے اس عبادت کو نماز، روزہ ، حج وغیرہ میں تلاش کیا تو کسی نے اس کو انسانیت کی خدمت میں۔۔۔ مگر اگر انسان یہ سمجھتا ہے کہ نماز، روزہ، حج، زکواۃ، خمس یا یگر فروع دین کو خدا کیلئے انجام دیتا ہے اور ان عبادات سے خدا کو کوئی نفع پہنچا سکتا ہے تو یہ اس کی بہت بڑی بھول ہے کہ خدا کی خدائی میں اس کے نماز و روزہ سے کسی قسم کا اضافہ نہیں ہوگا۔ خداوند قدوس کی صمدیت اس بات سے ماوراء ہے ۔ نہ تو صرف نماز، روزہ، حج وغیرہ کی ظاہری شکل خدا کی بارگاہ میں قابل قبول ہے نہ ہی صرف انسانیت کی خدمت کا نعرہ لگا کر نماز ، روزہ وغیرہ کی ظاہری شکل سے دوری اختیار کرکے بندگان خداکے حقوق ادا کرکے فرض پورا ہوتا ہے۔ بلکہ اسلام وہ دین فطرت ہے جو انسان کی فطرت نہ صرف انسان کی فطرت بلکہ اس کائنات کے ارتقاء کا سسٹم و نظام جن رموز پر قائم ہے اس کا کمال صرف دین مبین اسلام پر عمل کرنے سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔ چاہے ابتدائے عمر میں وہ ظاہری اعمال پر ہی منحصر ہو اور بعد میں ان اعمال کی تفسیر و توجیہ یا ان اعمال کا کنایہ سمجھ میں آنے پر اعمال گہرائی اور معرفت کے ساتھ انجام پائے جانے لگیں۔عمر کے ہر دور میں ظاہر ی اور باطنی امور میں دلچسپی اور اس پر عمل اس ارتقائی سفر کیلئے ضروری ہے۔خداوند نے عقائد سے لےکر یعنی اصول دین سے فروع دین تک جتنے بھی اعمال و نظریات اپنانے پر زور دیا ہے وہ انسان کی اپنی بقا ء و ارتقاء کیلئے منظم و با ترتیب زندگی گذارنے کے آلے ہیں۔ جس میں انفرادی یا اندرونی یعنی نفسیاتی نظم و ضبط سے لیکر بیرونی یعنی جسمانی، علمی، معاشی، ثقافتی، معاشرتی و سیاسی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کی خو دلائی گئ ہے اور انسان سے چاہا گیا ہے کہ اس دنیا کو جنت کے نمونے یا ماڈل کے طور پر پیش کرے۔ خداوند کو نہ ہمارے علم حاصل کرنے سے سروکار ہے نہ اس کو ہمارے نماز پڑھنے ، روزہ رکھنے یا صلئہ رحمی سے کوئی فائدہ ہے نہ اس کو ہمارے حلال رزق کمانے اور مصرف سے کوئی غرض ہے نہ ہمارے انفاق و فطرہ و زکواۃ کی ادائیگی سے سروکار ہے نہ ہی اس کو ہمارے عادل و منصوص من اللہ رہبر، امام و قائد کے چاہے جانے و اطاعت سے کوئی فرق پڑتا ہے۔ فرق پڑتا ہے تو ہمیں ! فائدہ ہے تو ہمارا ! صرف ہمارا یعنی انسان کا ! ان احکامات دین کے ذریعے خدا معاشرہ انسانی کو ، زندگی انسانی کو ایک آئین ، ایک ھمہ گیر آئین ِزندگی و اصول ِ منطقی کے تحت منظم کرنا چاہتا ہے تاکہ اس نظام کی بدولت تما م شعبہ ء حیات ایک فطری نظام اور فطرت کے قوانین کے تحت منظم ہوجائیں جس سےعقل انسانی بھی مطمئن ہو، ضمیر انسانی بھی مطمئن ہو اور جذباتی رحجانات کو مثبت راہیں میسر ہوں۔ اس سسٹم اور نظم و ترتیب کی نظریاتی شکل اسلامی تعلیمات ہی ہیں اور ان پر عمل پیرا ہونا اور ہر شعبہ حیات میں یہ نظریات و احکاماتِ فطرت ضمیر انسانی سے پھوٹتے ہیں اور ضمیر انسانی کو مطمئن کرتے ہیں، ان کتابی و نظریاتی باتوں کے ذریعے اسلام کا نظام انسان کو ایک بڑے نیٹورک سے منسل کرتا ہے اور ایک بین الاقوامی و بین العوالم تربیتی نظام سے منسلک کرتا ہے اور قدم بقدم انسانی زندگی کو آہستہ آہستہ علوم اور پھر عملی شکل میں مختلف نظاموں میں حصہ لینے والا ایک بامعرفت اور متحرک انسان تشکیل دیتا ہے یہ وہ نظام ہیں ، یہ وہ دینی نظریات ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر انسان نفس مطمئنہ یعنی تقرب الی اللہ کی منزل پر فائز ہوتا ہے اور یہ مدارج ِعلم و آگاہی و معرفت ہیں جن کے ساتھ مومنین اجتماعی ریاضتوں کے ساتھ قرب الہی میں اضافہ کرتے چلے جاتے ہیں۔ پست ، رکیک و گناہ آلود خیالات نہ صرف انسان کے ذہن کو فشار ذہنی میں مبتلا کرتے ہیں بلکہ ان خیالات پر عمل کرنا معاشرہ ھائے انسانی کے مختلف شعبہ جات میں انتشار و ناھم آہنگی ، بے نظمی و بے ترتیبی کے اثرات کو فروغ دیتے ہیں۔ انسانیت کا شرف اعلیٰ اخلاق کی بلند منزلیں ہیں جو اس کو نفس مطمئن عطا کرتی ہیں اور دنیا کے ظاہری نظاموں یعنی معیشت، سیاست ، علوم و فنون ، معاشرت وغیرہ میں ایک سسٹم کا نمونہ کے طور پر پیش کرتی ہیں ! ایساسسٹم جو منطقی نظریات و عاقلانہ روش پر مبنی باترتیب اور منظم کارخانہ حیات کے کل پرزے ہیں۔ اسلامی تعلیمات اس کارخانے کے کل پرزے کی طرح ہیں جو خام مال کو استعمال کے قابل بناتے ہیں جو اشیاء سے فائدہ اٹھانے کیلئے اس کو تیار کرتے ہیں۔ انسان پیدائیش کے بعد اگر سسٹمِ معاشرتی میں منطقی نظم و ضبط نہیں دیکھتا یعنی کفر الحاد و منافقت پر مبنی معاشرہ دیکھتا ہے تو اسلامی تعلیمات پر عمل اس انسان کو اُس منطقی سسٹم سے مربوط کردیتی ہیں جو باقی رہنے والا ہے جس میں شعور کی کارفرمائی ہے۔ اسلامی تعلیمات پر عمل انسان کو بقا کی طرف لیجاتا ہے اس کے معاشرتی نظاموں کو بقاء و ابدی زندگی عطا کرتا ہے اس کے انفرادی اعمال کو منطق، ترتیب، نظم و انضباط اور نفس کو اطمینان عطا کرتا ہے۔ خواہ بیت الخلاء کے آداب و تہذیب کی بات ہو یا کسب ِ روزگار و مصارف معاشی کی بات ہو چاہے مرد و عورت و کے روابط یا نونہالان کی تربیت و معاشرے میں روا رکھے جانے والے رویوں کا طریق ہو، خواہ دشمن فطرت و منطق سے صلح و صفائی یا جنگ کی بات ہو، چاہے حکومت بنانے اور خلقِ خدا کی خدمت کی روش ہو۔ اسلام ہر شعبہ میں تہذیب زندگی و روش اخلاق یعنی سرخرو و سربلند ہونے کے طریقہ کار بتاتا ہے۔ خدا باکمال ہے اور کمال کو پسند کرتا ہے ۔ پستی و رکیکیت سے نفرت کرتا ہے۔ اسلام نے علم کے حصول کو انسان پر فرض کرکے اسکی اپنی اٹھان و سربلندی چاہی ہے، اخلاق کے رموز سے معاشرتی روابط کو استحکام عطا کیا ہے اور محبت و امن کی خو دلائی ہے۔ ولایت سے منسلک کرکے باشعور افراد کو حکومت بنانے کا اختیار دے کر نظام ھائے معاشرتی، ثقافتی، معاشی وغیرہ کو درست راہ پر گامزن کیا ہے۔ معیشت میں حلال کے حصول و مصرف سے معاشرے میں مادی ضروریات کی تکمیل و مستضعفوں کے سہارے کا سامان کیا ہے۔ نماز کی کنائی شکل سے برائی کے خلاف عملی میدان میں عادل امام کے پیچھے متحد جماعت کو (قیام)برسرپیکار ہونے کی طرف راغب کیا ہے، روزہ سے کمتر معاشی طبقات کا احساس دلا کر ان کی ضرورتوں کو زکواۃ و فطرہ سے پورا کرنے کیلئے زمینہ فراہم کیا ہے۔ حج سے بین الاقوامی معاشروں کی خوبیوں کو اپنانے اور صلہ ء رحمی اور تعلقات کے فروغ و ذہن کو بین الاقوامی بنانے کا راستہ دکھایا ہے اور ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھنے اور انکے حل کی راہ دکھائی ہے۔ غرض دین فطرت یعنی جو نظام و سسٹم خدا نے بنایا ہے اس کو اپنا کرانسانی معاشرے کوارتقاء و کمال پر انسان کو ہی پہنچانا ہے ۔خدا و اولیاء اللہ سےاس ارتقائی منزلوں میں آنے والی مشکلات و آزمائشات میں توسل سے ھمت و حوصلہ لینا تو حتمی ہے اور پس پردہ طاقت جو ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتی مگر باطنی بصیرت سے مشاہدہ کی جاسکتی ہے، خدا ہی کی ہے مگر اس ارتقائی سفر کو کمال پر پہنچانے کا ذمہ حضرتِ انسان کا ہی ہے۔ وہ انسان جو اسلام کے فطری قوانین پر عمل پیرا ہوکر معاشرہ انسانی کی معاشی ، علمی، ثقافتی، معاشتی یا سیاسی ارتقاء کو کمال پر پہنچائے باالفاظ دیگر معاشرہ انسانی کو جنت کے نمونے پر پیش کرے وہی اس جنت میں بھی جانے کے حقدار ہوں گے جو خداوند کریم نے ایسے مومنین کیلئے روز حشر کے بعد تیار کررکھی ہے۔ انشاءاللہپروردگار عالم سے دعا ہے کہ ہمیں اپنا عبد خالص بنا کر اپنے بندوں کی خدمت کی ایسی توفیق مرحمت فرمائے جس میں ہماری دونوں جہانوں کی سعادتوں کی تکمیل ہوسکے۔ اللھم صلی علی محمد وعلی آل محمد وعجل فرجھم اجمعینتحریر: سید جہانزیب عابدی
nice sharing
Nice good
There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)
Bookmarks