Originally Posted by kiddokid [Only registered users can see links. Click here to Register]
قرآن کی آیات ترتیبِ نزول کے مطابق نہیں۔
بلکہ کچھ آیات تو ایسی ہیں کہ انکا پہلا حصہ کسی ایک وقت نازل ہوا ہے تو درمیانی حصہ کئی سالوں کے فرق سے کسی اور موقع پر، اور آخری حصہ کسی اور موقع پر۔
ایسی ہی ایک آیت تطہیر بھی ہے جس کا درمیانی حصہ بالکل الگ وقت میں ام سلمہ (ع) کے گھر میں نازل ہوا اور اسکے اگلے اور پچھلے حصے سے کوئی تعلق نہیں۔
ایسی ہی ایک آیت ذیل کی بھی ہے۔
قرآن کی کچھ آیات ہیں جنکا ایک حصہ کسی ایک واقعے کے بارے میں نازل ہوا، جبکہ دوسرا حصہ کسی اور وقت کسی بالکل غیر متعلق واقعے کے بارے میں نازل ہوا۔ مثلا یہ آیت:
(القرآن 5:3) تم پر مرا ہوا جانور اور (بہتا) لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلا گھٹ کر مر جائے اور جو چوٹ لگ کر مر جائے اور جو گر کر مر جائے اور جو سینگ لگ کر مر جائے یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کھائیں۔ مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کرلو اور وہ جانور بھی جو تھان پر ذبح کیا جائے اور یہ بھی کہ پاسوں سے قسمت معلوم کرو یہ سب گناہ (کے کام) ہیں آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہو گئے ہیں تو ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ہی ڈرتے رہو (اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ہاں جو شخص بھوک میں ناچار ہو جائے (بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہےتمام مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس آیت کا پہلا اور آخری حصہ حرام چیزوں کے متعلق ہے اور یہ حکم سن 6 ہجری میں صلح حدیبیہ سے متصل نازل ہوا۔
مگر اسی آیت کا درمیان والا حصہ (دین کا مل کیا جانا) اسکے چار سال بعد سن 10 ہجری میں رسول (ص) کی وفات سے تقریبا 81 دن پہلے نازل ہوا۔یعنی یہ بالکل الگ جگہ، بالکل الگ موقع پر نازل ہوا اور اس حصہ کا اگلے اور پچھلے حصہ سے کوئی تعلق نہیں۔
مولانا مودودی تفہیم القرآن میں اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں لکھتے ہیں:
مستند روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت حجۃ الوداع کے موقعہ پر سن ۱۰ ہجری میں نازل ہوئی تھی ۔ لیکن جس سلسلۂ کلام میں یہ واقع ہوئی ہے وہ صُلحِ حُدَیبیَہ سے متصل زمانہ (سن ۶ ہجری) کا ہے ۔مولانا تقی عثمانی بھی اپنی تفسیر میں آیت کے اس حصے کا نزول سن دس ہجری میں بتلا رہے ہیں:
بعض یہودیوں نے حضرت عمر سے عرج کیا کہ اگر یہ آیت "الیوم اکملت لکم دینکم" ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس کے یوم نزول کو عید منایا کرتے۔ حضرت عمر نے فرمایا: تجھے معلم نہیں کہ جس روز یہ ہم پر نازل کی گئی مسلمانوں کی دو عیدیں جمع ہو گئی تھیں۔ یہ آیت سن 10 ہجری میں "حجۃ الوداع" کے موقع پر "عرفہ" کے روز "جمع" کے دن "عصر" کے وقت نازل ہوئی جبکہ میدانِ عرفات میں نبی کریم (ص) کی اونٹنی کے گرد چالیس ہزار سے زائد اتقیا و ابرار رضی اللہ عنہم کا مجمعِ کثیر تھا۔ اس کے بعد صرف اکیاسی روز حضور اس دنیا میں جلوہ افروز رہے۔




Reply With Quote
Bookmarks