رسول خدا کی مدینہ ہجرت کے بعد ابو عامر فاسق جو اپنے قبیلہ اوس کے ۵۰ افراد کے ساتھ مشرکین کے سربرآوردہ افراد کی پناہ میں تھا وہ ان افراد کو رسول خدا سے جنگ کرنے پر ابھارتا رہا۔ وہ اپنے قبیلہ کے افراد کے ساتھ مشرکین کی تیاریوں میں شریک تھا اس نے کہا کہ یہ ۵۰ افراد میرے قبیلہ کے ہیں اور جس وقت ہم سرزمین مدینہ پر پہنچیں گے اس وقت قبیلہ اوس کے تمام افراد ہماری طرفداری کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔مدینہ کا قصدقریش نے مکمل تیاری کے بعد اپنے سپاہیوں کو روانہ کیا یہ لشکر تین ہزار افراد پر مشتمل تھا جس میں سات سو زرہ پوش، دو سو گھڑ سوار اور تین ہزار شتر سوار بے پناہ اسلحہ، اس جنگی قافلہ میں ۱۵ عورتیں شریک تھیں تاکہ گابجا کر ان کے جذبات کو برانگیختہ کریں۔مشرکین کے لشکر کا سپہ سالار ابوسفیان تھا اور خالد بن ولید نے سواروں کی افسری کی ذمہ داری سنبھال رکھی تھی، عکرمہ بن ابی جھل خالد کے معاون کی حیثیت سے اس بار لشکر مشرکین ہر طرح کے ایسے اختلاف سے اجتناب کر رہا تھا جو ان کو دو گرہوں میں بانٹ دیتا ہے۔
nice sharing
There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)
Bookmarks